جناب غلام فرید صاحب، سیکریٹری ہائر ایجوکیشن، نے بسنت جیسے تہذیبی و ثقافتی استعارے کے ذریعے اُن اجتماعی جذبات کو آواز دی ہے جو برسوں سے دلوں میں مقید تھے۔
“رت بسنتی کی آخر رہائی ہوئی” صرف ایک مصرع نہیں بلکہ امید، رنگ، زندگی اور ثقافتی تسلسل کی بحالی کا اعلان ہے۔
ادب، تہذیب اور مثبت سماجی احساسات کی ایسی شائستہ اور باوقار ترجمانی یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
اس خوبصورت ادبی کاوش پر دلی مبارکباد اور خراجِ تحسین۔